مسیحی عقیدہ کے مطابق روح القدس کی معموری کا نشان کیا ہے؟  کیا خداوند یسوع مسیح نے کوئی ایسا نشان دیا؟

جواب

خُداوند یسوع مسیح نے آسمان پر صعود فرمانے سے پیشتر اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر فرمایا لیکن جب روح القدس تم پر نازل ہو گا تو تُم قوت پائو گے اور یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ بلکہ زمین  کی اِنتہا تک تُم میرے گواہ ہو گے (اعمال1:8)۔ روح القدس کے ہونے کا نشان’’گواہی دینا‘‘ ہے۔اِس سے یہ مراد ہے کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ  مجھ میں روح القدس ہے اور وہ گواہی نہیں دیتا تو وہ جھوٹا ہے اور دھوکے میں ہونے کے سبب سے  وہ دھوکا دیتا ہے کیونکہ جہاں خُدا کا روح ہے وہاں دلیری اور گواہی ہے۔روح القدس کے بغیر مقدَس پطرس بھی بُزدِلی دِکھاتا اور خُداوند کا تین بار اِنکار کر دیتا ہے۔ لیکن جب روح القدس نازل ہوتاہے  تو اُس کے ایک ہی وعظ کے وسیلہ سے تین ہزار لوگ مسیح کے پاس آ جاتے ہیں۔ کلیسیائی ترقی گواہی دینے میں ہے اِس کے علاوہ کوئی ایسا نشان نہیں کہ کلیسیا ترقی پائے۔یاد رکھیں کہ اِس گواہی سے مراد اِنجیل یعنی خوشخبری سُنانا ہے اور یہ خوشخبری نئے علاقوں اور نئے لوگوں میں سُنائی جائے۔اِس خوشخبری کا بیان آپ 1کرنتھیوں 15:3-4 آیات میں پڑھ سکتے ہیں جہاں لکھا ہے ’’چنانچہ  میں نے سب سے پہلے تُم کو وہی بات پہنچا دی  جو مجھے پہنچی تھی کہ مسیح  کتابِ مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں کیلئے موا اور دفن ہوا اور تیسرے دِن کتابِ مُقدس کے مطابق جی اُٹھا‘‘۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی روح القدس سے معمور ہو گا تو اُس کی زِندگی سے روح القدس کا پھل بھی نظر آئے گا۔اگر روح کا پھل نہیں تو پھر لڑائی جھگڑا ہی ہو گا اور جہاں لِڑائی جھگڑا ہے وہاں خُدا کا روح نہیں ہے۔یاد رکھیں کہ ہمارا خُدا ابتری کا خُدا نہیں بلکہ امن کا بانی ہے۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔