حضرتِ عیسی ٰ علیہ السلام پر تو ایک ہی انجیل اُتری تھی جبکہ آج چار اناجیل نظر آتی ہیں یہ کیا ہے؟

جواب

یہ ایسا سوال ہے جو میرے مسلمان دوست اکثر پوچھتے ہیں۔جناب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضور المسیح پر کوئی بھی انجیل نہیں اُتری تھی یعنی اُن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کلامِ خُدا ہیں۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ خُدا یہ فرماتا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ میں یہ کہتا ہوں ۔کلامِ مجسّم ہونے کی صُورت میں آپ دُنیا میں وہ واحد ہستی ہیں جو خود کلام ہیں اور آپ پر کوئی کلام نازل نہیں ہوا بلکہ آپ کلام کو نازل کرنے والے ہیں۔ویسے میں آپ کے زیورِعلم میں اِضافہ کیلئے کہوں گا کہ میں حضرتِ عیسی علیہ السلام کو جانتا بھی نہیں اور نہ ہی آپ کا انجیل شریف میں ذکر ہے۔

رہی بات انجیل کی تو ‘‘انجیل’’کے معنیٰ کتاب کے نہیں بلکہ خوشی کی خبر کے ہیں۔اس خوشخبری میں پیش کیا جانے والا پیغام کلامِ مُقدّس کے مکاشفات پر مبنی ہے۔وہ پیغام یہ ہے کہ مسیح کتابِ مُقدّس کے مطابق ہمارے گناہوں کیلئے موا دفن ہوا اور تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھا۔یہی انجیل ہے جِسے دُنیا کو سُننے کی ضرورت ہے۔اَب یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انجیل یعنی خوشخبری صر ف ایک ہی ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی خوشخبری نہیں ہے۔

خُدا نے اُس ایک انجیل یعنی خوشخبری کواحاطہ تحریر میں لانے کیلئے چار اشخاص کا انتخاب کیا اور یہ اُس کی طرف سے چُنیدہ تھے۔ خُدا نے چاروں اشخاص کو ایک کام سونپا اور وہ یہ کہ یسوع مسیح کی زِندگی، تعلیمات اور مُعجزات کو تحریر کرنے والے ہوں۔اُنہوں نے خُدا کے مُلہم کلام کو اپنی زبان اور اپنے سامعین کی ضرورت کے عین مطابق تحریر کیا۔گویا ایک ہی انجیل کے چار انسانی مصنفین تھے جنہوں نے مُختلف زاویوں سے اس انجیل کو تحریر کیا۔الفاظ اُن کے ہیں لیکن پیغام اور مفہوم خُدا کی طرف سے ہے۔لہٰذا میں یہ عرض کروں گا کہ ہمارے پاس یہ ایک ہی انجیل ہے چار نہیں ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ خُدا نے چار اشخاص کے ذریعے اسے تحریرکروایا۔

اس کی وجہ یہ ہےکہ تورات کی کتاب میں لکھا ہے کہ جو بھی بات ہو اُسے گواہوں کے ذریعے ثابت کیا جائے۔لہٰذا یہ چار گواہ ہیں جو ایک ہی خوشخبری کو مختلف زاویوں سے پیش کر رہے ہیں۔یہ ایسے ہی ہے کہ چار مختلف اشخاص کو ایک ہی مضمون پر لکھنے کیلئے کہا جائے۔اُمید ہے کہ اب آپ کی تسلی ہو گئی ہو گی۔خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔