لاہور سے صادق بھائی سوال کرتے ہیں کہ کُچھ لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اہلِ کلیسیا کو کتنی دہ یکی دینا چاہئے یا اُن پر کتنی فرض ہے اور اس دہ یکی کا طریقہ کیا ہے۔ کیا سال میں ایک ہی بار دینا چاہئےے یا کیا ہے؟

جواب

صادق بھائی ٲپ کا سوال بہت اچھا ہے۔اس سے پہلے بھی کُچھ لوگوں نے ایسا سوال مُجھ سے کیا ہے۔جواب میں عرض یہ ہے کہ جس طرح سے ہمارے مسلمان دوستوں پر کُچھ باتیں فرض ہیں اور  کسی بھی صورت میں اُنہیں اُن کا پابند رہنا ضروری ہے۔اگر وہ اُن فرائض سے روگردانی کرتے ہیں تو اُنہیں اس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔جیسے اگر ماہِ رمضان میں کوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو اُس کو اُن روزوں کا کفارہ ادا کر نا ہو گا۔ہمارے ہاں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔ہاں اگر ہم اچھے کام نہیں کرتے تو ہم دوسروں کیلئے اچھا نمونہ نہیں ہیں۔

اب دَہ یکی جیسا کہ لفظ سے ظاہر ہےمسیحی ایماندار کی کسی بھی طرح کی جائز آمدن کا دسواں حصہ ہوتا ہے۔عہدِعتیق میں دہ یکی حضرتِ ابرہام سے لے کر ساری بنی اسرائیل کی تاریخ میں دی جاتی رہی۔یہ دہ یکی لوگ اپنی مرضی سے نہیں دے سکتے تھے بلکہ جیسا کہ اُن کو ہدایت تھی خُدا کے گھر میں لایا کرتے تھے اور یوں خدمت گُزاری کا کام کیاجاتا تھا۔آپ جانتے ہیں کہ ملاکی نبی کے صحیفہ میں آیا ہے کہ پوری دَہ یکی ذخیرہ خانہ میں لائو اور یہ ذخیرہ خانہ کاہوں کی جیبیں نہیں تھیں بلکہ ہیکل کا خزانہ ہوتا تھا۔عہدِعتیق میں اہلِ یہود کو جیسے بھی ہوتا دہ یکی دینا ضروری تھا۔گویا یوں کہنا چاہیئے کہ یہ اُن کی مجبوری بن گئی تھی۔

اِسی طرح جب ہم نئے عہد نامے میں دیکھتے ہیں  کہ دہ یکی کا کوئی تصوَر نہیں۔ہدیئے، نذرانے اور خوشی سے دینے کا ذکر ملتا ہے لیکن دسویں حصے کا کوئی ذکر نہیں۔اب کیا ہم اس سے یہ نتیجہ اُخذ کریں کہ ہمیں دہ یکی نہیں دینا چاہیئے؟جی ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ہمیں شکرگزاری اور خوشی کیساتھ دینا چاہئے۔نئے عہد نامہ میں مسیحی تصوّر یہ ہے کہ جہاں خُدا نے اپنا سب کُچھ یہاں تک کہ اپنا اکلوتا بیٹا بھی دے دینے سے دریغ نہیں کیا وہاں ہم ماپ ماپ کر کیوں دیں۔ہمیں دہ یکی نہیں بلکہ اُس سے کہیں زیادہ بڑھ کر دینا چاہیئے۔کلامِ مُقدّس میں آیا ہے کہ خُدا خوشی سے دینے والوں کو عزیز رکھتا ہے۔

آج بے شمار لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور وہ کسی حد تک درست بھی کہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خُدا کو اپنے کاروبار یا روپیہ پیسہ میں شریک ہی نہیں کرتے یعنی اُس کے کام کیلئے کُچھ نہیں دیتے تو پھر کمی تو ضرور ہو گی ہی۔بیماریاں اور پولیس والے اور بِل وہ ٹِڈیاں ہیں جو ہماری حاصل کو چٹ کر جاتی ہیں اور اُس وقت ہم پادریوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ ہمارے لئے دُعا کریں۔یاد رکھیں کہ ہماری وفاداری کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔پادریوں کی دُعائیں کوئی منتر نہیں کہ آپ پر ہاتھ رکھتے ہی آپ کے حالات اُستوار ہو جائینگے۔یہ غلط اور منفی سوچ ہے۔آپ کی برکت کا دارو مدارآپ کی وفاداری پر ہے۔یاد رکھیں کہ اگر خُدا کا حصۃ اُس کو نہیں دینگے تو وہ نکالنا جانتا ہے۔

اب سوال کا ایک اور اہم جُزو یہ ہے کہ سال میں ایک ہی بار دینا ہے یا ہر ماہ دینا ہے۔جناب اگر ہمیں سال بعد تنخواہ ملتی ہے تو سال بعد ہی دیں۔اگر ہمیں چھ ماہ بعد تنخواہ ملتی ہے تو چھ ماہ بعد دیں۔اگر ہمیں ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے تو ہر ماہ دینا چاہئے۔اگر ہمیں روزانہ اُجرت ملتی ہے تو خُدا کا حصہ الگ کر لینا چاہیئے۔لیکن اس سب کُچھ سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ  اگر ہم نے اپنا دِل خُدا کو نہیں دیا  اور پیسہ دیتے ہیں تو اس پیسہ کا نہ دینا زیادہ بہتر ہے۔حکم ماننا قربانی چڑھانے سے بہتر ہے۔خُدا سب سے پہلے ہمارا دِل مانگتا ہے اور جب دِل اُس کا ہو جائے تو جو کُچھ اُس نے ہمیں دیا ہوا ہے وہ خود بخود اُس کا ہو جاتاہے۔اُمید کرتا ہوں کہ یہ مختصر سا جواب آپ کی مدد فرمائے گا کہ خود سمجھ کر دوسروں کی مدد کر سکیں۔میری دُعا ہے کہ خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔