جب حضور المسیح نے فرمایا کہ میں اِسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کیلئے نہیں آیا اور یہاں تک کہ آپ نے اپنے شاگردوں کو بھی حکم دیا کہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو سوااور کسی کے پاس نہیں آیا تو پھر اِس کا مطلب یہ ہوا کہ یسوع مسیح صرف اِسرائیل کیلئے ہی تشریف لائے تھے دُنیا کے باقی لوگوں کیلئے نہیں۔لہٰذا مسیحی لوگ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ حضور المسیح اُن کیلئے بھی آئے؟۔

جواب

سوال کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی مسیحی شخص کا سوال نہیں ہے۔  تاہم اِس بات کی پھر سے دُہرائی کرتا چلوں کہ کسی بھی آیت کی تفسیر اُس کے سیاق و سباق ، پسِ منظر اور اُس معاشرے کے مطابق کرنا ضروری ہے۔عموماً کسی ایک آیت کو لے کر آپ تعلیم نہیں بنا سکتے کیونکہ اُس سے پہلے اور بعد کی بھی آیات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ سوال کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل آیات کو بھی سمجھ لیں( متی15:24؛ متی 10:5-6؛ رومیوں 15:8

اِس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ خُدا کسی کا بھی طرفدار نہیں۔یوحنا 3:16میں رقم ہے کہ ’’خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی۔۔۔‘‘رومیوں 5:12 میں لکھا ہے’’ایک ہی آدمی کے سبب سے گناہ دُنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گناہ کیا۔ یہاں پر یہ نہیں لکھا کہ صرف قوم بنی اسرائیل میں گناہ آیا۔   رومیوں 3:10 میں لکھا ہے کہ  کوئی بھی راستباز نہیں ایک بھی نہیں۔  رومیوں 3:23 میں ہے کہ سب نے گناہ کی اور خُداکے جلال سے محروم ہیں‘‘۔  لہٰذا اِس حقیقت کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ اولادِ آدم گنہگار ہے اور خُدا محبت ہے۔وہ سب لوگوں سے مساوی پیار کرتا ہے اور وہ کِسی کا بھی طرفدار نہیں۔

خُدا نے حضرتِ ابراہیم کو اپنے مقصد یعنی اپنے کام کیلئے ایک بُت پرست گھرانے سے چُنا اور اُنہیں برکت بخشنے کا وعدہ کیا (پیدائش12:1-3  پھر عالمِ بزرگی میں اُن سے فرزندِ موعودحضرتِ اضحاق کی وِلادت ہوئی اور اُنہیں بھی برکت دی اور پھر اُن سے بھی وعدہ فرمایا(پیدائش 26:4)۔ پھر اُن کے فرزند حضرت یعقوب کو برکت بخشی اور اُن سے بھی وعدہ فرمایا( پیدائش 28:14)۔ اِن ہی کو بعد میں اِسرائیل کا نام مِلا۔   اِن کے بارہ بیٹے تھے جن سے اِسرائیل کے بارہ قبائل چلے۔

گنہگار اِنسان کی نجات کیلئے اِنتظام بھی خُدا نے قوم بنی اِسرائیل  کے ذریعےسے ہی کر رکھا تھا۔ اگر چہ اِس کا منصوبہ اُس نے بنائے عالم سے پیشتر سے بنا یا ہوا تھا۔  انبیا و رُسل بنی اِسرائیل سے ہی آئے تھے۔  یوں بنی اسرائیل سب سے نرالی اور خُدا کی طرف سے چُنیدہ قوم تھی۔ خُدا نے اُسے برکت بخشی ہوئی تھی۔ چنانچہ خُدا اپنے زورِ بازو سے مِصر کی غلامی سے اُنہیں نِکلا لایا اور بیابان کے سفر میں اُن کی ضروریات کو بہم پہنچایا اور یوں وہ اُنہیں سرزمینِ موعود کی طرف لے آیا جس کا خُدا نے اُن کے باپ حضرتِ ابرہام سے وعدہ کیا ہوا تھا۔

مسیحا جو کُل جہان کیلئے نجات دہندہ کے طور پر تشریف لائے یہودیوں میں سے ہی تھے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ خُدا نے فرمایا کہ عدالت میرے اپنے گھر سے شروع ہو گی؟یہی تو سبب تھا کہ خُدا نے اولیت یا ترجیح  سب سے پہلے اہلِ یہودکو دی کہ وہ نجات پائیں۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ  مجھے بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا گیا ہے اور اِسی طرح مسیح نے اپنے شاگردوں کو بھی  پہلے اسرائیل کے پاس ہی جانے کیلئے کہا یعنی ترجیح پہلے بنی اِسرائیل کو ہی دی گئی۔ کُچھ یہودی آپ پر ایمان لائے جب کہ زیادہ تر آپ کی مخالفت کرنے لگے۔ یہی سبب تھا کہ مسیحا نے فرمایا کہ  نبی اپنے وطن میں عِزت نہیں پاتا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اپنے میں آیا اور اُنہوں نے مجھے قبول نہیں کیا لیکن جتنوں نے مجھے قبول کیا میں نے اُنہیں خُدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا یعنی وہ جو مجھ پر ایمان لاتے ہیں(یوحنا3:16

بنی اسرائیل کے اِس نجات کے پیالے کو ٹُھکرانے پر اِنجیل کا پیغام آج ساری دُنیا میں پھیل گیا۔یہاں یوحنا 3:16والی آیت کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’’خُدا نے دُنیا سے محبت رکھی۔۔۔۔‘‘۔ پیغامِ نجات ساری دنیا کیلئے ہے مگر مشروط ہے۔مشروط اِس لیئے کہ اِس پر ایمان لانے کے وسیلہ سے نجات ہے۔اِس کے علاوہ بنی نوع اِنسان کے پاس نجات کا کوئی اِنتظام نہیں ہے۔ آسمان کے تلے اور زمین کے اوپر کوئی اور نام بخشا ہی نہیں گیا جس کے وسیلہ سے  گنہگار اِنسان نجات پا سکے(اعمال 4:12)۔محبتِ اِلٰہی سب لوگوں کیلئے ہے۔ مسیحا سب گنہگار لوگوں کیلئے ہی تشریف لائے تھے۔خُداوند ہمیں حکمت عنایت فرمائے کہ تعصب کی عینک اُتار کر ہم اِن حقائق کے بارے میں سیکھ سکیں۔ آمین۔

کیا انبیا معصوم ہیں؟