متی12:40کے مطابق اس حقیقت کو ثابت کریں کہ یسوع مسیح  تین دن رات قبر میں رہے؟آسان لفظوں میں یہ کہ یسوع مسیح کا تین دِن اور رات قبر میں رہنا ثابت کیا جائےکیونکہ اگر آپ کی موت بروز جمعہ کو واقع ہوئی تو تن دِن رات پورے نہیں ہوتےِ؟

جواب

اس بہت ہی اچھے سوال کا بہت ہی مدلّل جواب بھی ہے۔قبل اس کے کہ آگےبڑھا جائے بہتر ہو گا کہ اس حوالے کو آپ کی خدمت میں یہاں تحریر ی صورت میں پیش کردیا جائے۔

متی12:40‘‘کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِ آدم تین رات دِن زمین کے اندر رہے گا’’

اس میں کوئی شک  کی گنجائش نہیں کہ مسیح  تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے کیونکہ اگر تین دِن پورے نہیں ہوتےتو پھر کلامِ مُقدّس کے تمام دعوے جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔یاد رکھیں کہ یہ حوالہ اُن کئی حوالہ جات میں سے ایک ہے جس میں یسوع مسیح کے تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا ذکر ہے۔اگر آپ دھیان سے یہ حوالہ جات پڑھ رہے ہوں تو آپ کو مشاہدہ ہوا ہو گا کہ میں بار بار ایک بات کا ذکر کیا کرتا ہوں کہ جس آیت کا آپ مطالعہ کرتے ہیں ضرور ہے کہ اُس کے سیاق و سباق اور تواریخی پسِ منظر کو بھی دیکھا جائے اور اچھا ہو گا کہ اس طرح کے دیگر حوالہ جات کا بھی  مطالعہ کیا جائے۔آیت کو ذاکر نائک کی طرح نہیں بلکہ تحقیق کی روح سے پڑھا جائے۔تاہم میری یہ ادنیٰ سی کاوش بہتیروں کی مدد کرے گی کہ وہ اس بھید کو سمجھ سکیں۔

اس سوال کے جواب کے سمجھنے کیلئے اچھا ہو گا  کہ یوحنا 19:31 کا مطالعہ کیا جائے‘‘پس چونکہ تیاری کا دِن تھا یہودیوں نے پیلاطس سے درخواست کی  کہ اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دِن صلیب پر نہ رہیں کیونکہ وہ سبت ایک خاص سبت تھا’’۔

قلم زَد الفاظ  کو غور سے پڑھیں۔ آیت پر غور فرمائیں۔یاد رکھیں کہ یہ سبت ساتواں دِن یعنی بروز ہفتہ والا سبت نہیں تھا۔یہ ایسا خاص سبت تھا جو سال میں صرف ایک ہی بار آتا تھا۔آُ جانتے ہیں کہ علما نے ایک تاریخ مقرّر کی کہ حضور المسیح کی ولادت اس تاریخ کو ہوئی۔تاریخ کے اعتبار سے تو یہ دِن 25دسمبر کو ہی منایا جاتا ہے۔اب 25دسمبر کو کونسا دِن پڑتا ہے یہ کوئی ضروری بات نہیں۔اسی طرح چاند ہی کے حساب سے یہودی کیلنڈر بھی تھا۔خروج 12 باب میں بنی اسرائیل کے  مصر سے خروج کا ذکر ہے۔خُدا نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اس دِن کو سال بہ سال منائیں(خروج 12:30)۔یہ عیدِ فسح تھی۔یہودی کیلنڈر کے پہلے ماہ، ماہِ نیسان کی پہلی تاریخ کو اس دِن کی تیاری شروع ہو جاتی تھی۔دسویں تاریخ کو فی خاندان کے حساب سے ایک برّہ لیا جاتا اور چودہ تاریخ شام کو اُسے ذبح کیاجاتا تھا۔اپس کا خون بطورِ نشان چوکھٹ پہ لگایا جاتااور اُسی رات اُس برّے کا گوشت کھایا جاتا تھا۔گویا اِس دِن کو بنی اسرائیل سال بہ سال بطورِ عید منایا کرتے تھے۔

جب مسیح یسوع مصلوب ہوئے تو وہ بھی عیدِ فسح کے ہی ایّام تھے۔مسیح کی مصلوبیت والے سال ماہِ نیسان کی چودہ تاریخ ہمارے انگریزی کیلنڈر کے مطابق  جمعرات کو تھی۔اُدھر فسح کے برّے ذبح ہو رہے تھے تو ادھر خُدا کا برّہ(یسوع مسیح) بطورِ کامل قربانی کے جہان کے  گناہوں  کا عوضی اور فدیہ ہو رہا تھا(یوحنا 1:29)۔گویا مسیح خُداوند بروز جمعرات کو مصلوب ہوئے اور یوں اتوار صبح کوجی اُٹھے اور یوں تین رات اور دِن بن جاتے ہیں۔

جمعرات شام 6  بجے سے جمعہ شروع ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔ جمعہ

جمعہ شام چھ بجے سے ہفتہ شروع ہوتا تھا۔۔۔۔۔ہفتہ

ہفتہ شام چھ بجے سے  اتوار شروع ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ہفتہ

اب ایک تو جمعرات کی رات (جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات)

دُوسری جمعہ کی رات  ( جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات)

تیسری ہفتہ کی رات  (ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات)

لہٰذا یسوع مسیح ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو کسی بھی وقت جی اُٹھے۔کیونکہ جب صبح سویرے خواتین قبر پر آئیں تو غالباً 5 بجے ہوئے ہوں گے تو اُنہوں نے قبر خالی پائی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا یہ معتبر جواب ہے۔میں نے اکیلے بیٹھ کر اس سوال کا جوڑ توڑ نہیں کیا بلکہ اس سوال کا جواب تحریر کرنے میں  مجھے کئی علما سے رابطے قائم کرنے پڑے اور تحقیق بھی کی  تاکہ آپ کی خدمت میں بہترین جواب پیش کیا جا سکے۔خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔