خُداوند یسوع مسیح کی موت واقع ہوئی کہ نہیں؟ کیونکہ میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ بدل گیا تھا اور یوں اللہ تعالیٰ نے آپ کی جگہ کسی دوسرے کو صلیب پر چڑھادیا۔

جواب

ایک بات کا ذکر میں پہلے ہی کر چُکا ہوں کہ گنہگار اِنسان کیلئے خُدا کی طرف سے جو پیکج Package  ہے اُس میں گنہگار اِنسان کی فلاح، گناہوں کی معافی اور ہمیشہ کی زِندگی کے دیئے جانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔کتابِ مُقدس کا مضمون و مفہوم بھی یہی ہے۔ اور یہی وہ واحد سچائی ہے جو اوراقِ بائبل مقدس میں شروع سے آخر تک دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔خُدا ابتدائے زمانہ سے ہی بنی نوع اِنسان کے گناہوں کی معافی کے منصوبے پر کام کرتا چلا آرہا ہے۔اُس نے انبیا کرام کی معرفت قبل از وقت پیشینگوئیاں بھی کی تھیں۔

بائبل مُقدّس کے مطابق خُدا صادق القول ہے اور وہ اَنسان نہیں کہ جھوٹ بولے۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اُس کی اپنی ذات اور شان کے برخلاف ہو۔میرا خُدا جو کہتا ہے وہ پورا کرتا ہے۔خُدا واحد ہے اِس سبب سے اُس کے پاس جانے کی راہ بھی واحد ہے۔یہ راہ اِنسان کی اپنی گھڑی ہوئی نہیں ہے۔اِنسان تو پہلے ہی قربتِ اِلٰہی میں آنے سے عاجز ہے۔چنانچہ خُد انے اِنسان کو اپنی قربت میں لانے کا اِنتظام کیا جسے دُنیا میں آج بے شمار لوگ نہیں سمجھتے۔ خُدا کی طرف سے اِنسان کے گناہوں کے کفارے کا اِنتظام ہوا۔ حضور المسیح ہی وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے گنہگار اِنسان کیلئے صلیب پر اپنی جان دی اور آپ کےاِس عملِ صالح کی بھی ایک نہیں کئی نبوّتیں  پہلے ہی سے کتابِ مُقدّس میں موجود ہیں۔

اب وہ جو شروع ہی سے ایک خاص منصوبے پر جو اِنسانی نجات کیلئے تھا کام کرتا چلا آیا اور عین وقت پر وہ یسوع مسیح کو صلیب پر چڑھنے نہیں دیتا۔میں سمجھتا ہوں کہ خُدا ایسا نہیں کرتا۔اگرچہ میرے ماننے یا نہ ماننے سے اُس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو بھی میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  ایسا کرنا اُس کی شان کے برخلاف ہے۔صلیب پر خُدا وند یسوع ہی مر گئے اور بنی نوع اِنسان کے گناہوں کے عوضی ہوئے کیونکہ اِس کے علاوہ اورکوئی چارہ نہ تھا۔اگر صلیب پر کوئی اور شخص مرتا تو اُس کےمنہ سے وہ کلمات ہر گِز نہ نکلتے جو خُدا وند یسوع مسیح کے دہن مبارک سے نکلے۔

اگر کوئی اور ہوتا تو وہ  تو چِلا اُٹھتا کہ میں یسوع نہیں وہ کوئی اور ہے اور مجھے ایک بار صلیب پر سے اُترنے تو دو, پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں۔لیکن مصلوب نے فرمایا’’اے باپ اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں‘‘۔اگر کوئی اور شخص ہوتا تو اپنے ساتھ مصلوب بدکار شخص سے مخاطب ہو کر یہ کبھی نہ کہتا کہ’’تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا‘‘۔کیونکہ اُس کے پاس ایسا کہنے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ یہ خُدا وند یسوع مسیح ہی ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’ ارض و سما کا کُل اختیار مجھے دیا گیا ہے‘‘(متی 28:18)۔ مرقس 10:45میں یسوع مسیح نے اپنے اِس دُنیا میں تشریف لانے کے مقصد کو بیان کیا کہ میں بنی نوع اِنسان کے گناہوں کے عوضی اور کفارہ ہونے کیلئے آیا ہوں۔

یسوع مسیح صلیب پر ہمارے گناہوں کیلئے مر گئے تاکہ ہم نہ مارے جائیں۔اُنہوں نے ہمارے گناہ اُٹھا لئے تاکہ ہم اُن کے وسیلہ سے معافی حاصل کر سکیں۔ مسیح نے اِس لئے دُکھ اُٹھایا کہ ہم سُکھ میں رہیں۔وہ ہماری خاطر اِس لئے لعنتی بنے تاکہ ہم برکت کے وارث ہو جائیں۔اے گنہگار اِنسان تیرے لئے موقع ہے کہ تُواپنے گناہوں سے توبہ کر، اپنی ہار مان، زِندگی کے سرچشمے یسوع کے پاس آ جا تاکہ تُو گڑھے سے نِکالا جائے اور تجھے چٹان پر کھڑا کیا جائے۔ مزید مدد  کیلئے ہمیں ضرور لکھیں۔خُدا وند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔